جدید ٹیکنالوجی

پاکستانیوں کے لئیے ایک خوشخبری یہ ہے کہ وطن عزیز کے ماہرین نے مکمل طور پر پاکستان میں تیار شدہ ایک ایسی ٹیکنالوجی بنائی ہے کہ جس کے ذریعے پاکستان دنیا کی تمام قوموں سے زیادہ طاقتور ہوگیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ٹاپ سیکرٹ رکھی جارہی تھی تاہم چند حکومتی عہدیداروں کے منہ پھٹ ہونے کی وجہ سے یہ راز فاش ہوگیا کہ پاکستان ایسی ٹیکنالوجی کے حصول میں کامیاب ہوگیا ہے جس سے کسی بھی انسان کے جسم کو ٹرانسپیرینٹ بنایا جاسکتا ہے۔ یعنی کہ روشنی کی لہریں انسانی جسم سے آرپار ہوجائیں اور یوں متعلقہ جسم دکھائی نہیں پڑتا۔

اس ایجاد کا بھانڈا اسوقت پھوٹا جب کراچی میں طوفانی بارشوں کے دوران شہری حکومت نے اعلان کیا کہ ان کا ہزاروں افراد پر مشتمل عملہ بارش کے دوران ہائ الرٹ رہا اور شہر بھر میں پانی کی نکاسی کا ضروری اہتمام کرتا رہا۔ ساتھ ہی کے ای ایس سی کے فرینک شمٹ صاحب کا بھی بیان آگیا کہ ان کا تین ہزار افراد پر مشتمل عملہ ہنگامی حالت سے لڑتا رہا اور شہر بھر میں بجلی کی فراہمی اور بحالی کی کوششیں کرتا رہا۔ لیکن پاکستان کی ٹاپ سیکرٹ لیبارٹری جہاں اس ٹیکنالوجی کی تیاری عمل میں آئی ہے انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ ٹیکنالوجی افواج پاکستان کے حوالے کردی جائے تاکہ وہ دشمن کے دانت کھٹے کرسکیں۔ تجرباتی طور پر انہوں نے اس ٹیکنالوجی کو کے ای ایس سی اور شہری حکومت کے ملازمین پر آزمائی۔

اس لئیے اگر آپ کو شہری حکومت یا کے ای ایس سی کا عملہ کہیں کام کرتا نہ دکھائی دے تو سمجھ جائیے گا وہ وہیں کہیں ہیں بس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے آپ کو نظر نہیں آرہے۔

تحریر: نعمان | موضوعات: کراچی