نئے دن پرانی باتیں

کراچی میں سردی کا موسم بس ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی ہلکی سی چادر اوڑھ کر آرام سے سو سکتے ہیں۔ یا کھڑکیاں بند کرلیں تو موسم بالکل گرم ہوجاتا ہے۔ کراچی کے سردی سے ترسے ہوئے لوگ سردیوں کا موسم باقاعدہ سیلیبریٹ کرتے ہیں۔

گذشتہ چند روز سے کوئٹہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے گرگیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی کچھ ادھار کی سردی مل گئی ہے۔ نورالعین اور مناہل بھی آئے ہوئے تھے تو ہم نے پرانے البم نکال لئیے۔ مونگ پھلیاں کھاتے ہوئے اور کافی پیتے ہوئے ہم نے پرانے البم دیکھے اور ایک دوسرے کا خوب مذاق اڑایا۔ نورالعین بچپن میں بہت موٹی تھی لیکن پھر اسے ہوش آیا اور ڈائٹنگ اور ایکسرسائز کر کے وہ دبلی ہوگئی۔ مناہل کے ہونے کے بعد وہ پھر موٹی ہوگئی اور آجکل وہ پھر ڈائٹ کر رہی ہے تاکہ پھر سے دبلی ہوجائے۔ اب ہمارے پاس نورالعین کے ایسے بہت سارے فوٹو ہیں۔ کسی میں وہ موٹی ہے کسی میں دبلی اور کسی میں پھر دوبارہ موٹی۔

عازب جب چھوٹا تھا تو اسکے بال ہیری پوٹر جیسے تھے۔ چاہے کتنی ہی مانگ نکالنے کی کوشش کریں اسکے بال پھسل کر پھر ماتھے پر آجاتے تھے۔ میں لڑکپن کے دنوں میں بہت کول نظر آنے کی کوشش کرتا تھا۔ بیچ کی مانگ نکال کر جینز اور عجیب و غریب ٹی شرٹس پہنتا تھا۔ کامران کے بچپن کے فوٹو تو بہت ہی مسکین صورت ہیں۔

اب عازب اس دور میں ہے جو میں گزار چکا ہوں۔ اب عازب بیچ کی مانگ کے بال نکالتا ہے اور جینز اور کولسٹ شرٹس پہننے کی کوشش کرتا ہے۔ کامران ہمارے گھر میں سب سے زیادہ سوشلائز بندہ ہے۔ جینز ٹی شرٹ اور جیکٹ پہن کر وہ اپنی عمر کے تمام لڑکوں جیسا نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں اب چھوٹے چھوٹے بال رکھتا ہوں۔ سادی سی پینٹ شرٹ پہنتا ہوں شوخ رنگوں سے گریز کرتا ہوں اور آہستہ آہستہ موٹاپے کی طرف مائل ہوں۔ میرے سکس پیک ایبس غائب ہورہے ہیں اور ان کی جگہ چھوٹی سی توند نکل رہی ہے۔ اٹھائیس انچ کی کمر اب بتیس انچ ہوگئی ہے۔ چوڑے کندھوں پر اب چربی نظر آنے لگی ہے۔ ساٹھ کلو وزن سے اب ستر بہتر کلو ہوگیا ہے۔

کاش میرے پاس کوئی ٹائم مشین ہوتی تو میں وقت میں پیچھے چلا جاتا۔ جب ہم سب بہن بھائی چھوٹے تھے اور اسکول جاتے تھے۔ عازب اور عینی بہت شوق سے اسکول جاتے تھے۔ کامران بھی شوق سے اسکول جاتا تھا مگر وہ ہمیشہ سب سے دیر میں اٹھتا تھا اور پھر بھاگ دوڑ میں تیار ہوتا تھا اور اکثر اسکول دیر سے پہنچنے پر ڈانٹ کھاتا تھا۔ میں سب سے زیادہ بہانے باز تھا جب تک ہفتے میں ایک دو چھٹیاں نہیں کرلیتا تھا تو چین نہیں آتا تھا۔ اسکول سے آکر ہم کھیلتے کودتے تھے اور ایکدوسرے کو خوب تنگ کرتے تھے۔ خصوصا عازب اور نورالعین تو ہمیں امی ابو سے اکثر ڈانٹ پڑواتے تھے۔ پھر رات کو ہم سب این ٹی ایم پر ساتھ بیٹھ کر بیک ٹو دی فیوچر، الفریڈ ہچکاک پریزنٹس اور لٹل وومن دیکھتے تھے۔ ان دنوں میں این ٹی ایم نامی چینل پرانی پاکستانی فلمیں بھی دکھاتا تھا جو میرے امی ابو اور میں شوق سے دیکھتے تھے لیکن کامران عازب اور نورالعین بیچ میں ہی سوجاتے تھے۔

ہوسکتا ہے کہ پانچ دس سال بعد میں پھر ڈائری لکھ رہا ہوں اور اس دن میں آج کا یہ دن یاد کروں اور لکھوں کہ کس طرح ہم سب بہن بھائی پرانے البم دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور ہم کتنی خوشدلی اور بے فکری سے ہنستے تھے۔ برابر والے کمرے میں کامران، عازب اور نورالعین ابھی بھی باتیں کررہے ہیں۔ میں بھی وہاں جارہا ہوں تاکہ پانچ سے دس سال بعد والی پوسٹ میں لکھنے کے لئیے زیادہ سے زیادہ خوشگوار یادیں جمع کرسکوں۔

تبصرے:

  1. very nice topic bhai….mujhy apna bachpan yaad agia…balky abchpun tou abhi bhi salamat ha..wo kehaty hain an her insan k ander ik bacha hota ha:P
    tasveerain dekhna mera bhi buhat acah mashghala hota tha..balky..abhi bhi ha..balky mujhy yaad ha…mery mama baba ki shadi k 2 barray barray almbum hotay thy…ikper blue color ka cover hota tha ..ik per red color ka….mein na red wala apnay pass rakha hota tha..aor blue wala meri behan k pass..ik din ham dono na motay black marker sy uskay oper naam likh deay or comments bhi..uskay baad jo dant pitti thi..wo mein kabhi nhi bhol sakti…
    aor school mein bhi buhat shoq sy jaya karti thEE…..likin 1class mein jab mera schoolchange hua..tou pooray 5 saal mein ik din bhi choray bagher..roz roti thee even school mein bhi…pata nhi kion mujhy wahan ammi yaad aya kartein thein

    aor sardi ki bhi khob kahi apna..islamabad mein tou itni sardi ha..k sab khirkiyan darwazay band kar k bhi kulfiyan jam rahi ha…oper sy shadiyan alag 🙁

    aor NTM k ye programme mujhy bhi yaad ha..mystery theater, phir jo cartoons lagtay thy( ninja turtle urdu wala, camp candy) back to the future, mystery theater, aor pata nhi kon kon sy

    god bless u n ur family..ameen:)

  2. تشفین (امید ہے میں نے آپ کا نام صحیح لکھا ہوگا) آپکا تبصرہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ بچپن کے دن بھولے بھالے ہوتے ہیں بڑے ہوکر ہم سب لالچی ہوجاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے خوش نہیں ہوتے۔

    بلاگ کے ڈیزائن میں رنگوں کا اضافہ آپکے اور قدیر کے مشورے پر ہی کیا ہے اور اسطرف میری توجہ دلانے کے لئیے بھی میں آپکا بہت مشکور ہوں۔

  3. nahi bhai..naam sahi nhi likha apnay…”tay” k baad "alif” ata ha:)
    bilkol sahi kaha ap na..buhat masoof din hotay hain wo..
    aor is mien shukria ki baat nahi..mujhy jo mehsoos hua bata dea
    ik cheez or..pehly wlaa greeting message "ziyada”acah tha..ap na edit kion kar dea?

  4. تاشفین امید ہے اب صحیح لکھا ہوگا۔ ماشاءاللہ بہت پیارا نام ہے اسکے معنی کیا ہیں؟ پہلے والا گریٹنگ مسیج پھولوں والے بیگ گراؤنڈ پر آکر پڑھا نہیں جارہا تھا۔ یہ گریٹنگ عارضی ہے جلد ہی کوئی اچھی گریٹنگ لکھوں گا۔

    آپ جب کمنٹ کیا کریں تو وہاں فارم میں آپ اپنا نام بھی لکھ سکتی ہیں اسکے لئیے آپکو بلاگر پر اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں۔

  5. ji ab bilkol shai likha ha naam..aor thank u pasand karny ka bhi..likin bahi mein jhoot nhi boloun gi..mera asal naam nhi yeah..aor pehly wala greeting message kafi acah tha..ab technical details ka tou apka hi pata hoga
    aor mein baqee try karti houn form k through naam send karny ki..
    baat suannay ka..tajaweez per ghor karny ka shuria bhai:)

Comments are closed.