لسانی عصبیت

کچھ دن پہلے میں نے کشور ناہید کے کالم میری زبان کی التجا کا ربط شائع کرا تھا۔ اب انجم انصار اپنے کالم میں کشور ناہید کے کالم کا جواب دیتی ہیں۔ وہ لکھتی ہیں:

کشور ناہید کا یہ کہنا کہ اپنی زبان سے خون کی بو آنے لگی ہے سن کر تعجب ہوتا ہے۔ پھر کسی دوسری زبان سے ان کو تڑ تڑ گولیاں چلتی بھی سنائی دے سکتی ہیں۔ کوئی زبان شاید انہیں ناچتی ہوئی دکھائی دے اور کوئی ہاتھ جوڑے کھڑی ہو۔ ایسی بھی شاید کوئی زبان ہو جو فلسفہ بیان کرنے والی ہو۔ فاضل مصنفہ شاید یہ بھی کہہ دیں کہ کسی زبان کو سن کر ان کے سر میں درد ہوتا ہے اور کسی کو سن کر خود فراموشی کی سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ وہ 46 سال سے تو ضرور لکھ رہی ہیں مگر یہ حقیقت بھول گئیں کہ زبانیں تو صرف پھول ہوتی ہیں جن سے خوشبو آتی ہے، ان میں سے خون کی بو کبھی نہیں آتی اور نہ ہی اس میں خوف کی آلائشیں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ آلائشیں اور تخریب کاریاں تو شیطانی اذہان کے گیم ہیں (جو ہر جگہ اور ہر ملک میں نظر آتے ہیں) اگر آپ کسی زبان میں بھی کسی کو گالی دیں تو گالی کی اصل وجہ آپ کی زبان کیوں کر ٹھہر سکتی ہے۔

انجم انصار غالبا کشور ناہید کی التجا سمجھ نہیں سکیں۔ کشور بھی یہی کہنا چاہ رہی ہیں کہ ان کی زبان کو سیاسی ڈراموں میں نہ الجھایا جائے۔ ہاں البتہ کشور کے کالم میں چند جملوں سے ایسا لگتا ہے جیسے کراچی میں لسانی تعصب زور پکڑ گیا ہو۔ وہ لکھتی ہیں:

کراچی میں سارے صوبوں کے لوگ رہتے تھے۔ ہر چند کہ لیاقت علی خاں نے اپنا حلقہ انتخاب بنانے کے لئے پاکستان آنے والے پناہ گزینوں کو وہاں آباد کرنے کی ترغیب دی تھی مگر ہر نسل و رنگ کا شخص اپنے اپنے انداز کی اردو بول کر، محبتیں وصول کرتا اور تقسیم کرتا تھا۔

یہاں پر تھا اور تھے کے استعمال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کراچی میں اب ایسا نہیں۔ جو بالکل خلاف حقیقت ہے۔ کراچی میں اب بھی تمام صوبوں کے لوگ رہتے ہیں۔ انجم انصار اسی بارے میں اپنے کالم میں لکھتی ہیں:

۔۔۔ ہاں کراچی ایک ایسا شہر ضرور ہے جہاں پنجابی بھی اردو ایسی بولتا ہے کہ پہچان میں نہیں آتا اور جب اردو بولنے والوں کے بچے اردو بولتے ہیں تو وہ اہل زبان نہیں لگتے اور یوں بھی اس شہر میں سب سے زیادہ شادیاں باہر کرنے کا رواج ہے۔ سندھیوں، پنجابیوں اور اردو بولنے والوں کی اتنی شادیاں شاید کسی اور صوبے میں نہ ہوتی ہوں گی۔۔۔
۔۔۔ کراچی کو سب منی پاکستان اس وجہ سے کہتے ہیں کہ یہاں پاکستان کے تمام صوبوں بلکہ بہت ساری اقوام کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں کوئی نفاق نہیں، یہاں کوئی کدورت نہیں۔ پاکستان کے کسی بھی شہر یا گاؤں سے جو بھی کراچی آتا ہے اسے یہ شہر دبئی سے کم نہیں لگتا۔ یہ ایسا غریب نواز شہر ہے کہ ہر آنے والے کو اپنے گلے سے لگا لیتا ہے۔

کراچی میں لسانی عصبیت وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہے۔ مختلف زبانوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے معاشی، معاشرتی اور شہری مسائل ایک دوسرے سے اسطرح جڑے ہیں کہ اب لوگ زیادہ دیر ایک دوسرے سے خفا نہیں رہ سکتے۔

تبصرے:

  1. کشور ناہید ایک آزاد خیال خاتون ہیں لیکن اعلٰی کردار و اطوار کی مالک ہیں ۔ میرے اور ان کے خیالات میں تصادم رہا لیکن وہ مجھ سے بڑی ہیں اسلئے میں نے کبھی ان سے گستاخی کی جرأت نہ کی ۔ وہ ہندوستان کے ایک مہذب شہر کے ایک مہذب اور تعلیم یافتہ خاندان کی بیٹی ہیں ۔ وہ اُردو کا درد اپنے دل میں رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اپنے احساسات کی صحیح ترجمانی کی ہے ۔
    اُردو محبت کی زبان تھی اور اس پر کسی کی اجاراداری نہیں تھی ۔ کچھ خود غرض اور خود پسند لوگوں نے اُردو کا غلط استعمال کر کے اس پر تہمت لگانے کی کوشش کی ہے ۔ کراچی میں اُردو نے اُردو کا خون بہایا ہے ۔

  2. اجمل میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ اردو کا بہت غلط استعمال ہوا ہے اور لسانی سیاست کو اب ختم ہونا ہی ہوگا۔ مگر بارہ مئی کے واقعات لسانی تناظر میں نہیں دیکھے جا سکتے۔

  3. ہاں یہ ٹھیک ہے کہ 12 مئی کے فسادات لسانی نہیں تھے ۔ اس میں مرنے والوں کی اکثریت اردو بولنے والوں کی تھی اور ان کو مارنے والوں کی اکثریت بھی اردو بولنے والے تھے ۔ میں یوں کہوں گا کہ اردو بولنے والوں اور مہاجرین دونوں کو بدنام کیا گیا ۔ میں جود مہاجر ہوں اور میرے اکثر دوست بھی مہاجر ہیں ۔ ایم کیو ایم کو کراچی والے تو کہا جا سکتا ہے مگر مہاجر نہیں ۔

  4. پاکستانی ایک عجیب قوم نظر آتی ہے ایسی قوم جسے کوئی چیز متحد نہیں رکھ سکتی۔ حتیٰ کے مذہب بھی نہیں۔ 12 مئی کے واقعات لسانی بے شک نہ تھے لیکن ھر قوم میں مسلمان ہونے سے ذیادہ لسانیت کی ذیادہ اہمیت ہے۔ یہ بات مزید اس لئے بھی عجیب لگتی کہ برابر کے ملک میں مذہب ایک نہ زبان لیکن پھر بھی ایک دوسرے کو قتل نہیں‌ کرتے۔ کم اذ کم اتنا نہیں‌جتنا پاکستان میں‌ہوتا ہے۔ شائد مزید صوبے بنا کر اس ناسور کو ختم کیا جا سکے اگر عوام بننے دیں تو !

  5. اجمل کیا اچھا نہ ہوگا کہ ایم کیو ایم کو ایم کیو ایم ہی رہنے دیا جائے؟ کیونکہ اگر وہ کراچی والے ہیں تو کراچی کے ساٹھ فیصد نان اردو اسپیکنگ افراد کہاں جائیں گے؟

    احمد صوبے بنانے سے پہلے یہ بات طے کرنا ضروری ہے کہ ان صوبوں کے درمیاں وسائل کی تقسیم کیسے ہوگی۔ جب چار صوبوں میں اتنے اختلافات ہیں تو مزید صوبے بننے پر کیا ہوگا؟

  6. ایم کیو ایم کو کراچی والے کہنا تو بالکل ہی غلط ہے۔ ایم کیو ایم اردو اسپیکنگ کی اکثریت کی من پسند جماعت صحیح‌ لیکن سب اردو اسپیکنگ کی بھی نمائندہ نہیں۔

  7. کراچی والے کہنے سے میرا مطلب یہ تھا کہ وہ اردو بولنے والوں میں سے اقلیت ہیں ۔

Comments are closed.