گذشتہ تین دن کراچی کے لوگوں پر ایک عذاب کی طرح گزرے ہیں۔ ہفتے کو کے ای ایس سی کے نامعلوم پاور پلانٹس میں نامعلوم نقص کے سبب پہلے سے موجود بجلی کی کمی میں ایک دم چار سو میگاواٹ کا اضافہ ہوگیا۔ ہفتے کے روز شہر کے تقریبا ہر اہم اور غیر اہم کاروباری اور رہائشی علاقے میں طویل ترین لوڈشیڈنگ کی گئی جس سے تنگ آکر لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مشتعل مظاہرین پر پولیس نے آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا۔
اتوار کے دن بھی لوڈشیڈنگ جاری رہی مگر تجارتی ادارے اور بازار بند ہونے کے سبب لوڈشیڈنگ کا تناسب کم رہا۔ مگر پیر کو، حسب توقع کے ای ایس سی کے تمام سسٹم ٹرپ کرگئے جگہ جگہ پراسرار فالٹ نکل آئے اور پورے شہر میں ہر ایک گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی گئی۔ صدر کے علاقے میں آدھی سی زیادہ دکانیں بند ہوگئیں، مختلف علاقوں میں رہائشی، دکاندار اور تاجر سڑکوں پر نکل آئے جلاؤ گھیراؤ اور کے ای ایس سی کی گاڑیوں پر پتھراؤ جاری رہا۔ کے ای ایس سی کے شکایتی مرکز 118 کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ وہاں ملازمین کی ہڑتال چل رہی ہے جو اپنی نوکری چھوڑنے کو تیار نہیں اور کے ای ایس سی ان سے جان چھڑانے کو بضد ہے۔ کیونکہ اب کے ای ایس سی کو کسی کی شکایت سننے کی ضرورت نہیں۔
رات رات بھر جاگنے کے سبب اور دن بھر لوڈشیڈنگ سے لڑتے لڑتے شہری تھک گئے ہیں، شدید مایوس اور بے انتہا غصے میں بھرے بیٹھے ہیں۔ ہر روز بجلی کے بحران پر جاری ہنگامہ آرائی کچھ اور علاقوں میں پھیلتی جارہی ہے۔ صدر، تین تلوار، اولڈ ٹاؤن ایریا کے تاجر اور دکاندار اس طرح کبھی سڑکوں پر نہیں آئے۔
میٹروبلاگنگ کراچی پر۔ کراچی میں کم خوابی کا شکار
کراچی میں سارا ملبہ کے ای ایس سی پر ڈالا جاتا ہے ۔ اسلام آباد میں تو کے ای ایس سی نہیں ہے ۔ کل صرف دن میں وقفوں کے ستھ کوئی سات گھینٹے بجلی بند رہی ۔ آج صبح سے ایک گھینٹے کے بعد 30 سے 40 منٹ تک بجلی بند رہتی ہے ۔ پانی کیلئے الگ ترس رہے ہیں ۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ کل اسلام آباد میں نیسلے کا پانی بھی نہیں ملا تھا کہ خرید کر ہی پی لیتے
اجمل کے ای ایس سی پر ملبہ اس لئے ڈالا جاتا ہے کیونکہ کراچی میں بجلی کی قلت کا ایک بڑا سبب ان کی ناقص کارکردگی ہے۔ بجلی کی کمی اتنی زیادہ نہیں لیکن کے ای ایس سی اپنی ناقص کارکردگی سے اپنے ہی آلات کو نقصان پہنچا بیٹھتی ہے۔ جن میں سے کافی سارے وہ اپگریڈ کرچکے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے اس انتہائی ناقص انتظامیہ کو قرض دینے کی حامی کیسے بھری۔
اسلام آباد میں لوڈشیڈنگ تو بہت آسان ہے کیونکہ وہاں رہائشی اور کمرشل علاقے الگ الگ ہیں تو لوڈبیلینسگ آسانی سی کی جاسکتی ہے پھر وہاں لوڈشیڈنگ اتنی زیادہ کیوں؟ سات آٹھ گھنٹے تو بہت ہی ظلم ہے۔ وہ بھی اتنی گرمی میں۔
کیا انتظامیھ اس مسئلے کا کوئی حل بھی سوچ رہی ہے یا پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ لگتا ہے موٹر سائیکل ہیلمٹ کی طرح جنریٹر بیچنے کی کوئی چال نہ ہو۔ کیونکھ حکومت نے رہائشی جنریٹروں پر ڈیوٹی کم کردی ہے۔ ویسے شہری اور صوبائی انتظامیہ کو بجلی کے بحران کو سنجیدگی سے لینا چاہیے یہ نہ ہو کہ اگلے انتخابات میں یہ بحران ان کو لے ڈوبے
ادھر تو دو سے تین گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے برداشت ہوجاتی ہے۔
شاکر صاحب ، آپ کی تحریر اب تک یقینَا واپڈا کے کسی ذمہ دار نے (اگر یہ لفظ ان کے لئے مناسب ہے تو) بھی پڑھ لی ہو گی۔ بس اب آپ تھوڑا سا انتظار کیجیئے کہ کب آپ بھی ان کی مہربانی سے ساری رات مچھروں کے ساتھ نبرد آزماہوتے ہیں۔ اور پھر فیصل آ باد کے مچھر۔ خدا کی پناہ شیخوں سے بھی زیادہ شیخ ہوتے ہیں۔ خون کے آخری قطرے کے حصول تک آپ کا پیچھا کریں گے۔
ویسے آج کل آپ ہوتے کہاں ہیں؟ آپ کو جب بھی میل بھیجا وہ جعلی نوٹ کی طرح سے ایک وارننگ کے ساتھ واپس آ جاتا ہے۔