دوسرا دن

ویسا ہی ایک اور دن۔ روزے کے بعد کچھ دیر ٹی وی دیکھا، دکان روانہ ہوا۔ دکان پہنچا تو کام کے ساتھ ساتھ باتیں بھی چلتی رہیں۔ عباس میری دکان پر کام کرتا ہے اس کا تعلق پنجاب کے ضلع چیچہ وطنی سے ہے۔ آج اس نے ایک واقعہ سنایا جو میں یہاں اسی کی زبانی لکھ رہا ہوں۔ اس کی زبانی لکھنا تو بہت مشکل ہے وہ بہت عجیب انداز میں بولتا ہے اور ایک ایک جملہ دو دو تین تین بار ری پیٹ کرتا ہے بیچ میں اگر کوئی گاہک آجائے تو اسے اپنا قصہ وہیں سے شروع کرنے میں بڑی دشواری ہوتی ہے اسلئیے وہ ایک دن میں ایک سے زیادہ قصہ نہیں سنا پاتا کیونکہ ایک قصہ سنانے ہی میں وہ گھنٹوں لگادیتا ہے۔ اسے اپنے کم تعلیم یافتہ ہونے کا بہت احساس ہے اسلئیے اس کے لہجے میں ایک پرزوریت پائی جاتی ہے وہ اپنی بات کا یقین دلانے کے لئیے بار بار ریپیٹ کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کی بات میں پینڈو پن کم سے کم نظر آئے حالانکہ اگر اس کی باتوں سے وہ پینڈو پن والی سادگی نکال دی جائے تو اس کی کہانی میں کچھ باقی نہیں رہ جاتا۔ کم تعلیمیافتہ لوگ عموما اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے اسٹائل کا مذاق اڑائیں گے۔

خیر تو عباس بولا

بھائی میرے ایک دوست کا بھائی ہے وہ بھی بس مست ملنگ آدمی ہے۔ اس کا نام محمد احسان ہے مگر گاؤں میں سب اسے گل شیر کہتے ہیں۔ بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ ایسا بندہ ہے کہ سڑی ہوئی گرمیوں میں وہ پورے کپڑے، جوتے، جرابیں اور سر پر اونی ٹوپی پہن کر گھومتا ہے اور اگر کہیں سایہ ہو تو وہاں کھڑا نہیں ہوگا بلکہ دھوپ میں کھڑا ہوگا۔ ھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ بری سے بری گرمی میں بھی گھر کے اندر چادر تان کر سوتا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس سرکاری نوکری ہے مگر اس کی نوکری ایسی ہے کہ بس کام وام کوئی نہیں ہوتا سارا دن گھومتا رہتا ہے۔

میں نے عباس کو ٹوک کر پوچھا کہ کہیں وہ پاگل تو نہیں؟

نہیں بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ بالکل پاگل نہیں ہے۔ آپ اس سے بات کرو بالکل صحیح بات کرے گا اور اتنی اچھی بات کرے گا کہ اگر آپ اس کے ساتھ بیٹھ جاؤ تو اتنا ہنسو گے اور خوش ہوگے۔

میں نے پوچھا "تو پھر وہ اتنی گرمی میں یہ حرکتیں کیوں کرتا ہے؟” عباس بولا

بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ میں نے اس سے بہت بار پوچھا مگر وہ بولتا ہے کہ اس کو گرمی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اچھا ایک دفعہ کا ذکر سناؤں بھائی آپ میری بات کا یقین نہیں کرو گے مگر یقین مانو میں بالکل سچ بتا رہا ہوں۔ وہ ایک مرتبہ گھر والوں سے لڑ کر اپنے ایک دوست کے پاس چلا گیا۔ بہت دن وہاں رہا مگر گھر تو واپس آنا تھا۔ تو وہ واپس آنے لگا مگر اس کے پاس بس کے پیسے نہیں تھے تو وہ پیدل ہی چل پڑا راستے میں وہ ایک گاؤں سے گذرا تو وہاں ایک حویلی کے باہر مجمع لگا ہوا تھا۔ اس نے لوگوں سے پوچھا تو پتہ چلا کہ یہاں جو بیچارے زمین دار رہتے ہیں ان کے ڈھنگروں میں بیماری آئی ہوئی ہے کل سے اب تک تین بھینسیں مر گئی اور دو مزید گرنے والی ہیں۔ تو بھائی آپ یقین کرو اس نے لوگوں کو بولا کہ تم سب سائڈ میں ہٹو میں دیکھوں گا اللہ نے چاہا تو سب صحیح ہوجائے گا۔ تو بھائی وہ گاؤں کے لوگ تو اس کو نہیں جانتے تھے مگر اس کا عجیب سے حلیہ دیکھ کر وہ بولے کہ پتہ نہیں کون ہے اور کیا پتہ کچھ کرامات ہی دکھادے۔ تو وہ اسے جانوروں کے پاس لے گئے۔ پھر اس نے ان جانوروں کے گرد سات چکر لگائے اور الٹا پلٹا پتہ نہیں کیا پڑھتا رہا اور ایک بالٹی پانی پر دم کر کے جانوروں پر چھڑکتا رہا۔ بھائی پھر اس نے وہ پانی ان لوگوں کو دیا اور کہا کہ بس کل تک یہ پانی چھڑکتے رہو اور نماز کے بعد دعا کرو سب جانور صبح تک کھڑے ہوجائیں گے۔ پھر بھائی جو بیچارہ زمیندار تھا اس نے اپنی جیب سے گل شیر کو پچاس روپے دئیے جس سے وہ بس میں بیٹھ کر گاؤں آیا۔ اچھا گاؤں میں تو کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ یہ کیا گل کھلا کر آیا ہے۔

بھائی آپ یقین کرو تین دن بعد اس گاؤں سے ایک گاڑی پوری بھر کر آدمیوں کی آئی اور ہمارے گاؤں کی چوک پر جہاں سے چیچہ وطنی کا راستہ جاتا ہے وہاں گل خان کا پوچھنے لگے۔ وہاں لوگوں نے بتایا کہ بھائی ہم گل شیر کو تو جانتے ہیں مگر گل خان نام کے کسی بندے کو نہیں جانتے اتنے میں میرے ابو وہاں پہنچے تو وہ انہیں ہوٹل میں لے گئے اور وہاں ان کو بٹھا کر پوچھا تو انہوں نے سارا قصہ سنایا اور یہ بتایا کہ ان کے سب جانور اگلے دن ہی ٹھیک ہوگئے۔ بھائی آپ یقین کرو وہ لوگ اتنا سامان کپڑے جوتے اور پتا نہیں کیا کیا اس کے واسطے لائے تھے۔ اور ہم نے تو اسے کبھی مسجد بھی نہیں جاتے دیکھا۔

میں نے عباس کو روکا اور کہا "کیا پتہ وہ گل شیر کوئی اللہ کا نیک بندہ ہی ہو”

نہیں بھائی آپ میری بات کا یقین کرو اسے تو شاید نماز پڑھنا بھی نہیں آتی ہوگی اور میں نے اس سے پوچھا کہ کیوں بے اب تو پیر ہوگیا ہے کیا؟ تو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ یار میں اسوقت بہت بھوکا تھا اور پیسے بھی نہیں تھے اور گاؤں تک پہنچتے پہنچتے تو میں شاید بھوک سے بیہوش ہوجاتا۔ میں نے سوچا کہ اور کچھ نہیں تو یہ لوگ مجھے لسی پانی تو پلاہی دیں گے یہ سوچ کر میں نے یہ ڈرامہ کیا۔

میں نے عباس سے پوچھا "مگر تو بتارہا تھا کہ گاؤں کہ لوگ تو کوئی بھی دروازہ کھٹکائے اسے کھانا دے دیتے ہیں وہ کسی سی مانگ نہیں سکتا تھا؟”

بھائی آپ یقین نہیں کرو گے مگر گاؤں کے آدمی مانگنے کو بہت برا فعل سمجھتے ہیں گل شیر بھلے پاگل ہی ہے مگر کبھی مانگے گا نہیں۔ آپ اسے کوئی چیز تحفے میں بھی دو گے تو وہ نہیں لے گا جب تک کہ وہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز آپ کو دینے کے لائق نہ ہو۔ یہاں میں نے سوچا کہ عباس مبالغہ کر رہا ہے۔

خیر میرے خیال میں جو لوگ سیدھے سادھے ہوتے ہیں اور کسی کا دل نہیں دکھاتے اللہ ان کی عزت رکھ لیتا ہے اور ان کے الٹے کاموں کو بھی سیدھا کردیتا ہے۔

کچھ دیر بعد ہماری دکان پر ہمارا ایک ریگولر کسٹومر آیا۔ وہ روز ہماری دکان پر بیٹھ کر ایک پاؤ گرم دودھ بھی پیتا ہے اور ایک کلو دودھ کچا پارسل بھی لے جاتا ہے۔ رمضان میں وہ دودھ پینے نہیں آرہا کیونکہ ہمیں دودھ گرم کرتے کرتے آٹھ بج جاتے ہیں اور وہ مغرب کی نماز پڑھ کر سیدھا دودھ پینے آتا ہے۔ اب آجکل وہ آگے ایک اور دکان سے دودھ پینے جاتا ہے۔ رات کو آیا اور کہنے لگا

"یار نعمان بھائی برا نہیں ماننا مگر ایک بات پوچھنا ہے۔ یار میں آگے والی دکان سے دودھ پیتا ہوں تو وہ ساڑھے سات روپے کا دیتا ہے اور تم لوگ نو روپے کا دیتے ہو کیوں؟”

میرا جی چاہا کہ اسکے ایک لگاؤں کان کے نیچے مگر ضبط کرنا پڑا اور الٹا تحمل سے اسے جواب دیا۔ دراصل آگے جو دکان ہے وہ گرم دودھ گائے کا بیچتے ہیں جو کہ بہت سستا ہے اور ہم گرم دودھ بھینس کا بیچتے ہیں جو اٹھائیس روپے کلو ہے۔ اب اسے خود ہی سوچنا چاہئیے تھا کہ کوئی دکان دار سات روپے پاؤ کا دودھ گیس خرچ کرکے کرسیاں ٹیبل لگا کر لیبر اور کاریگر رکھ کر اور چینی ڈال کر اسے صرف آٹھ آنے منافع پر کیسے دے سکتا ہے؟ اس رقم سے تو گیس کا بل بھی نہیں نکلے گا۔ مگر نہیں جناب بس شک کرنا کہ نعمان مجھ سے دو روپے زیادہ لے رہا ہے۔ اس ٹائپ کے گاہکوں سے میری بڑی ہٹتی ہے۔ دراصل ہم سب لوگ اتنے بے ایمان ہوگئے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر کوئی ہماری طرح بے ایمان ہے۔

آج اتوار کی وجہ سے دکانداری کچھ کم ہوئی لگ ہی نہیں رہا کہ رمضان ہیں ورنہ کہاں رمضان میں ہمارے پاس دودھ کی اتنی قلت ہوتی تھی اور کہاں اب روز دودھ بچ جاتا ہے۔ دہی اور لسی کی سیل تو اور بھی زیادہ ڈاؤن ہے۔ دکان بند کرکے گھر کا ناشتہ لیا، امی کی گولیاں دوائیاں لیں، میرے کمرے کی ٹیوب لائٹ خراب ہو گئی تھی تو ایک ٹیوب لائٹ لی اور کوئی ڈیڑھ بجے گھر پہنچا۔ مناہل اور نورالعین مجھے زینوں پر ہی مل گئے وہ اپنے گھر جارہی تھی اعجاز بھائی انہیں لینے آگئے تھے۔ میں نے اوپر چڑھتے ہوئے ان کی موٹر سائیکل نہیں دیکھی ورنہ ضرور سلام دعا کرتا۔ خیر نہایا دھویا کھانا وانا کھایا ٹی وی دیکھا پھر سحری کے ٹائم دودھ پراٹھا کھایا۔ نماز کے بعد کمپیوٹر پر بیٹھے تو حیران رہ گیا کہ میری ڈائری چوبیس گھنٹے میں اردو سیارے میں شامل ہوگئی اور کئی تجربہ کار بلاگرز نے میری پہلی پوسٹ پر مجھے مبارکباد اور مشورے بھی دئیے۔