گر جہنم بروئے زمیں است

کراچی ان دنوں ٹریفک اور گندگی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ شہری حکومت نے شہر کی صفائی کو پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور جب سے یہ فیصلہ ہوا ہے شہر کی سڑکوں پر گندگی کے انبار میں کچھ اور اضافہ ہوگیا ہے۔ حالانکہ ابھی اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا مگر اس پرائیویٹائزیشن سے شہری حکومت کے ہزاروں ملازمین کی نوکریاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ غالبا اسی حوصلہ شکنی کے سبب صفائی کا پہلے سے ناقص نطام مزید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ اوپر سے کھدائیاں جو ہمارے عظیم ناظم اعلی کے کراچی وژن کا اہم حصہ ہیں۔ کھدائیوں کی کہانی یہ ہے کہ شہر کی یوٹیلیٹیز کو باقاعدہ منظم کیا جائے تاکہ آئندہ پانی، گیس، ٹیلیفون وغیرہ کی لائنیں بچھانے میں کم سے کم لاگت آئے اور سڑکیں بھی زیادہ متاثر نہ ہوں۔

اس گندگی اور گرد و غبار پر سٹی ناظم مصطفی کمال کے پیٹ میں اچانک مروڑ اٹھا اور انہوں نے آئی آئی چندریگر روڈ پر پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے کو بھی بند کردیا۔ یہ سڑک کراچی کی انتہائی اہم شاہراہ ہے۔ پاکستان کی وال اسٹریٹ جہاں اکثر پاکستانی بینکوں اور قومی بینک کے ہیڈکوارٹر، سینکڑوں ملٹی نیشنل، ٹریول ایجنسیز، منی ایکسچنجر، اسٹاک بروکرز، سٹی ریلوے اسٹیشن، میڈیا کے ہیڈکوارٹرز اور پتہ نہیں کیا کیا واقع ہے۔ ہزاروں لوگ یہاں موجود دفاتر میں کام کرنے آتے ہیں اور لاکھوں لوگ اس سڑک سے گذرتے ہیں۔ شہری حکومت کے عظیم منصوبے کی وجہ سے صرف یہ سب لوگ ہی پریشانی کا شکار نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس سڑک کے بند ہونے سے پورا ایم اے جناح روڈ اور میلوں دور تک کی سڑکیں ٹریفک کے بحران سے گذر رہی ہیں۔ روزانہ لاکھوں شہری شہر کی سڑکوں پر قومی معیشت کے اتنہائی قیمتی گھنے ضائع کررہے ہیں۔ کروڑوں روپے کا پیٹرول ضائع ہورہا ہے۔ لوگوں کو پہنچنے والی ذہنی اذیت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔

شہری حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ منصوبہ انتہائی ضروری ہے۔ منصوبہ کیا ہے اس بارے میں زیادہ تفصیلات میسر نہیں۔ اس منصوبے پر دوسو ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ تمام یوٹیلیٹیز کو کھود کر منظم کیا جارہا ہے۔ کراچی میٹروبلاگ کی ہما آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع کسی دفتر میں کام کرتی ہیں۔ ان کی رپورٹ یہ ہے کہ پورا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کررہا ہے۔ دھول، مٹی اسقدر ہے کہ آنکھیں کھلی رکھنا محال ہے۔ پیدل چلنے کے لئیے بھی سڑک انتہائی خطرناک ہوگئی ہے کیونکہ تمام فٹ پاتھ اور اطراف کی گلیاں کھدائی کا شکار ہیں۔ پیدل چلنے والے لوگوں کو سڑک پر چلنا پڑ رہا ہے۔ جہاں پرائیوٹ ٹرانسپورٹ اندھا دھند چل رہا ہے۔

میں بذات خود آئی آئی چندریگر روڈ جاکر معائنے کی جسارت نہیں کرسکتا کہ اسکے لئیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے۔ لیکن ایک تو میں آئی آئی چندریگر سے کچھ ہی دور رہتا ہوں، دوسرا یہ کہ میں روزانہ شام کو ایم اے جناح روڈ سے گذرتا ہوں اسلئیے میں اندازہ کرسکتا ہوں کہ شہر میں ٹریفک کی کیا صورتحال ہوگی اور میرے خیال میں یہ ایک بہت غلط فیصلہ ہے۔ ترقیاتی کام کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں۔ مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ شہری حکومت سڑک بند کئیے بغیر یہ کام انجام دیتی۔ رات بھر کام کیا جاتا اور دن میں سڑک پر کسی نہ کسی طرح ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جاتی۔ جب پرائیوٹ ٹرانسپورٹ جیسے کار رکشہ ٹیکسی وغیرہ کو رواں رکھا جارہا ہے تو پبلک ٹرانسپورٹ کی بسوں سے کیا آفت آجاتی؟ گرچہ یہ منصوبہ مارچ میں ہی مکمل ہوجائیگا مگر تب تک پتہ نہیں کتنے ہی مریض ایمبولینسوں میں ہی دم توڑ دیں گے۔ فیصل ایدھی نے کل جنگ کو بتایا ہے ان کی ایمبولینس میں کل ایک مریض نے ادارہ برائے امراض قلب پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیا۔ اگر مریض کو بروقت ہسپتال پہنچایا جاسکتا تو شاید اس کی جان بچ جاتی۔

آئی آئی چندریگر روڈ
تین ہٹی پل ٹریفک جام
ایم اے جناح روڈ نزد بولٹن مارکیٹ

تحریر: نعمان | موضوعات: کراچی

تبصرے:

  1. ہم تو پہلے ہي کہتے تھے کہ جس طرح سرحد ميں ايم ايم اے کي حکومت کے آنے سے کوئي فرق نہيں پڑا اسي طرح کراچي ميں ايم کيو ايم کي حکومت آنے سے کوئي فرق نہیں پڑے گا۔ بلکہ ايم کيو ايم کي حکومت جماعت کے ناظم کي حکومت سے بھي بدتر رہے گي۔ جماعت کا ناظم کم از کم بےايمان نہيں تھا۔ ابھي آگے آگے ديکھۓ ہوتا ہے کيا۔

  2. میرا پاکستان میں آپ سے متفق نہیں ہوں کیونکہ نئے ناظم اعلی کے دور میں اس سے دس گنا زیادہ کام ہورہا ہے جتنا جماعت کے ناظم کے دور میں ہوتا تھا اور ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ جماعت کے ناظم پر کرپشن کے الزامات تھے۔

Comments are closed.