کراچی سے

کراچی: سہراب گوٹھ کی حسینائیں۔

کراچی شہری حکومت چھ تا اٹھارہ جنوریold-kmc-building-karachi.jpg "ہمارا کراچی فیسٹیول” منارہی ہے۔ اس سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں سابق میئروں سمیت دہلی اور کلکتہ کے مئیروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ان تقریبات کے دوران ایک کھیل "آزادی کے مجرم” خالقدینا ہال میں پیش کیا جائے گا، ایک پاک بھارت مشاعرے کا انتظام ہے، ایک تاریخی مخطوطات کی نمائش کا اہتمام پرانی کے ایم سی عمارت میں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک بین العقائد شام بھی منائی جائے گی جس میں کراچی کی کمیونیٹیز جیسے ہندو، عیسائی، پارسی، اسماعیلی وغیرہ شرکت کریں گے۔ ہمارا کراچی فیسٹیول کراچی میونسپل کارپوریشن کی تاریخی عمارت کے افتتاح کی پچھترویں سالگرہ کی خوشی میں منایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں عمارت کی از سر نو تزئین و آرائش کا کام کیا گیا ہے، خصوصی سجاوٹ کا انتظام ہے، اور عمارت پر نصب تاریخی گھڑیال کی مرمت بھی کردی گئی ہے۔ مزید: گورنر ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز۔

اب جبکہ آپ گورنر ہاؤس کے ویب سائٹ تک پہنچ ہی گئے ہیں۔ تو ملاحظہ فرمائیں سندھ گورنر ہاؤس کی تاریخ۔

جاوید اشرف قاضی نے تعلیمی اصلاحات کے لئے ملاقات کو آنے والے وفد کی مشترکہ امتحانات کے حوالے سے درخواست رد کردی۔ قاضی کا کہنا ہے کہ مشترکہ امتحانات کا فیصلہ صرف اس لئے واپس نہیں لیا جاسکتا کہ سندھ کو اس پر اعتراض ہے۔

سرمائی پرندوں کی سندھ آمد کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے بااثر عرب شیوخ کو ان کے شکار کے اجازت نامے جاری کر ڈالے ہیں۔ سندھ حکومت کے محکمہ وائلڈ لائف نے اس سلسلے میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

تبصرے:

  1. کیا““ہماراکراچی فیسٹول کی طرح کی تقریبات میں‌کراچی کی حکومت کو صرف بھارت ہی نظر آتاہے۔ اچھا ہوتا اگر کراچی کی انتظامیہ ذرا ہٹ کر سوچتی اور بنگلہ دیش سمیت دوسرے ممالک کے میئروں اور شاعروں کو بھی مدعو کرتی۔

  2. میرا پاکستان!

    بھارت ہی اب آپ کا (ہمارا) سب کچھ ہے۔ اب تو یہ وقت باقی رہ گیا ہے کہ کب ان سے کھانا کھانے کی بھی اجازت ملا کرے گی۔ کراچی کی شہری حکومت ایم کیو ایم ہے۔ اور انہیں ان کا اصل وطن بھارت ہی نظر آتا ہے۔ (یہ بات تمام محاجروں کے بارے میں نہیں کہی گئی) اور الطاف حسین اور اس کی جماعت کا بھارت کے ساتھ انٹر ایکشن کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ غلام ہمیشہ غلام ہی ہوتا ہے۔ بھارت ایم کیو ایم کے داتاؤں میں سے ایک ہے۔

  3. اگر بھارت کو ہی اہميت دينا تھی تو دہلی اور کلکتہ کے ميئر کيوں ؟ بمبئی کا ميئر کيوں نہيں ؟ جو کہ کراچی سے نزديک ہے اور کبھی کراچی اس کا حصہ تھا انہی پچھتر سالوں کے اندر جن کا جشن منايا جا رہا ہے ۔
    پھر کلکتہ تک تو پہنچ گئے مگر بنگلہ ديش کو چھوڑ ديا جہاں وہ پاکستانی کسمپُرسی کی حالت ميں پڑے ہيں جن کا رونا الطاف حسين صاحب ہر وقت روتے رہتے ہيں ۔

  4. یعنی رونا صرف یہ ہے کہ اس دعوت نامے کے پیچھے الطاف حسین کی ایم کیو ایم ہے؟ چاہے کلکتے کا مئیر آئے یا دہلی کا، آداب مہمان نوازی کا تقاضہ ہے کہ انہیں خوش آمدید کہا جائے۔

    اجمل صاحب پچھتر سالہ جشن کراچی میونسپل کارپوریشن کی عمارت کا منایا جارہا ہے۔ بطور ایک میونسپل کارپوریشن، کراچی کبھی بھی بمبئی کی میونسپل کارپوریشن کا حصہ نہیں رہا۔

Comments are closed.