ویسے تو گرچہ پورے ملک میں ہی لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ مگر کراچی لوڈشیڈنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ ہے۔ جہاں ایک طرف تو امتحانات کا سیزن ہے اورطلباء بہت زیادہ پریشان ہیں تو دوسری طرف صنعتکاروں اور تاجروں نے احتجاجا بل نہ ادا کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ہر روز اخبارات میں مختلف علاقوں سے عوامی دھرنوں اور ہنگامہ آرائی کی اطلاعات آرہی ہیں۔ کے ای ایس سی نے 250 میگاواٹ بجلی کا اگر انتظام کربھی لیا تب بھی انہیں اتنے ہی مزید بجلی درکار ہوگی۔ اور یہ ضرورت مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں اور بھی زیادہ بڑھ جائے گی۔
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن نے اس سلسلے میں چپ سادھ رکھی ہے اور سوائے اس کے کہ انہیں واپڈا سے بجلی حاصل نہیں ہورہی ان کے پاس کہنے کو کچھ ہے نہیں۔
آج کے اخبار میں عالی صاحب اس مسئلے پر یوں لکھتے ہیں:
کے ای ایس سی کی فروخت (ایک جھوٹے کئے جانے والے نیلام میں بہت ہی سستے داموں پر فروخت) میں ایک یہ شرط شامل تھی کہ نئی کمپنی مقررہ میعاد کے اندر اندر اتنا سرمایہ لگائے گی (تاکہ فوری طور پر حالات میں بہتری آئے) اور طویل المیعاد منصوبہ بندی بھی کرے گی۔ طویل میعاد تو طویل میعاد ہے کس نے دیکھی ہے فوری اور مطلوبہ سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوئی مگر نہ کمپنی کے نئے مالکوں اور مقامی منتظمین نے کوئی تسلی بخش وجوہ بتائیں، نہ اہل صحافت اور چند ذمہ دار شہریوں سے معائنے کرائے کہ ان کی کوئی ”مبینہ“ مجبوری ظاہر ہو۔ بس وہ کما رہے ہیں نئے مالکوں کو بھیج رہے ہیں اور شہری مسلسل وہ دکھ اٹھا رہے ہیں جس میں سے بعض شدید دکھ اوپر بیان کئے گئے۔ رہے اہل حکومت تو ان کے پاس نج کاری کی ڈھال ہے لیکن مستقبل کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں انہیں بتائے دیتا ہوں کہ ان کی ڈھالیں بہت جلد ٹوٹ جائیں گی۔
خلیل احمد نینی تال والا شہر کے ایک معروف صنعتکار اور سماجی شخصیت ہیں۔ آج کے روزنامہ جنگ میں انہوں نے کے ای ایس سی کے ذریعے شہر کو پہنچنے والے نقصانات کو پیش کیا ہے اور چند تجاویزات بھی پیش کی ہیں۔ یہ تجاویزات پہلے ہی سے حکومت کے زیر غور ہیں اور شاید زیرغور ہی رہیں گی۔
انگریزی بلاگ مائیکرو پاکستان پر حاکم نے ایک مزاحیہ تحریر بعنوان "کے ای ایس کا کراچی کے شہریوں کے خلاف احتجاج” شائع کی ہے۔
پچھلے سال کے ای ایس سی نے اشتہارات کے ذریعے عوام سے استدعا کی تھی کی وہ بجلی کے استعمال میں بچت کرکے لوڈشیڈنگ کو کم کرسکتے ہیں اور اس کا خاطر خواہ اثر بھی پڑا تھا۔ مگر اس سال تو کے ای ایس سی نے ڈھٹائی کی انتہا کردی ہے۔
اس ڈھٹائی کی وجہ یہ ہے کے ای ایس سی کے پچھلے ڈائریکٹر فرینک شرشمٹ کو بھگادیا گیا اور ان کی جگہ آرمی کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ آگئے ہیں جو کہ اس سے پہلے آرمی کارپوریشن کے ادارے فوجی فاؤنڈیشن میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اس فیصلے کو آپ کیا کہیں گے کہ جب ایک الیکٹریکل انجینئر جو کہ سیمنس پاکستان میں کام کرنے کا سالوں پر محیط تجربہ رکھتا ہو، ایک لیپ ٹاپ پر ہمہ وقت مصروف رہتا ہو اور کے ای ایس سی ملازمین سے براہ راست ان ٹچ رہتا ہو، اس کو ہٹا کر ایک نان ٹیکنیکل ریٹائرڈ فوجی کو ڈائریکٹر بنادیا جائے؟
ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ جہاں جہاں آرمی کے ریٹائرڈ جرنیل گئے ہیں اس ادارے کا بیڑہ غرق ہی ہوا ہے۔ لیکن کے ای ایس سی کے مالکان کو اس سے غرض نہیں، اگلے سال وہ نجکاری معاہدے کے تحت اپنے بیس فیصد شئر فروخت کرنے کے مجاز ہونگے۔ جو شئیر ان کی آمد کے وقت سوا روپے کا تھا وہ اب قریب بارہ روپے کا ہے۔ یعنی اگر وہ اس وقت بیس فیصد شیئر بیچ دیں تو کے ای ایس سی کی قمیت سے بھی زیادہ رقم کما لیں گے۔ باقی اسی فیصد شئیر وہ ایک دو سال میں فروخت کرلیں گے۔
Naumaan bhai, excuse the english comment. I tried commenting in urdu but I was unable to find a couple of letters and it got frustrating after a while. The culprit letters being hay and badi yay. Anyway, lets talk about KESC. They fired their CEO with one year to go in his contract. One of the reasons seems to be the fact that he was going after bijli-chors. KESC has a line loss of 20%. I don’t think any company in the world can survive with such theft. The thieves are the citizens and industrialists of Karachi in this case. The politicians who are playing games despite the energy crisis that looms large over the country’s head are the ones that need to be held accountable. Not the professional gora who in doing his job stepped on some powerful toes.