کہتے ہیں کہ ماضی کے جھروکے، مستقبل کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ اور کتنا صحیح کہتے ہیں۔ روزنامہ جنگ پر ماضی کے خزانے کے عنوان سے ایک سلسلہ چل رہا ہے جس میں پچاس کی دہائی میں شائع شدہ شوکت تھانوی صاحب کے ادارتی مضامین شائع ہورہے ہیں۔ آج کے اخبار میں ان کا بائیس جون انیس سو اٹھاون کو شائع ہونے والا مضمون شامل ہے۔ جس میں انہوں نے کراچی کے نئے مئیر کا ذکر کیا ہے ساتھ ہی شہری مسائل اور نئے مئیر کو درپیش مسائل کو نمایاں کیا ہے۔
یہ مئیر صاحب کہ جن کا اس مضمون میں ذکر ہے ان کا نام ایس ایم توفیق تھا۔ یہ ایک محدود مدت کے لئے کراچی کے مئیر رہے تھے اس کے بعد مارشل لاء لگ گیا تھا۔
اس وقت جبکہ کراچی ایک نسبتا صاف ستھرا شہر سمجھا جاتا تھا تب بھی کراچی کے شہری میں ویسٹ منیجمنٹ اور آبادی کا دباؤ سرفہرست تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مضمون میں اور آجکل کے میئر صاحب کی بابت لکھے گئے مضامین میں کتنی مماثلت ہے۔
جس برنس گارڈن کا ذکر تھانوی صاحب کررہے ہیں یہ وہی پارک ہے جس کی تصاویر میں یہاں پوسٹ کرتا رہتا ہوں۔ کسی دن گلزار مسجد کی تصویر بھی شائع کرونگا جو اب بھی باغیچے کے ساتھ ہی واقع ہے۔ مہاجرین کی جھونپڑیاں تو اب یہاں نہیں البتہ سرکاری ملازمین کے کواٹر گلزار مسجد کے ساتھ ہی موجود ہیں۔
کیا یاد دلایا آپ نے شوکت تھانوی تو بڑے پیارے لکھنے والوں میں سے تھے ۔ اب ایسے لوگ کہاں ۔
اللہ کا شکر ہے کہ شوکت تھانوی اب اس دنیا میں نہیں ہیں ورنہ اتنی بدبو برداشت نہ کرپاتے،
خیال رہے مینے شہر کی نہیں لوگوں کی بدبو کی بات کی ہے:)
میرے خیال میں، آپ کے اور میری طرح شوکت تھانوی صاحب بھی یہ برداشت کرلیتے۔ آخر انہیں اس شہر سے محبت جو تھی۔