یہ میرا بلاگ کم ڈائری ہے جہاں میں روز کچھ نہ کچھ لکھوں گا۔ اور جیسے جیسے میں کچھ کچھ لکھوں گا ویسے ویسے آپ لوگ میرے بارے میں جانتے جائیں گے۔
کل شام چھ بجے سو کر اٹھا۔ روزہ افطار کرنے کے بعد دکان روانہ ہوا۔ نورالعین اپنی بچی کے ساتھ رکنے آئی ہوئی ہے۔ دکان پہنچا اور دودھ بیچنے لگا۔ عباس سے ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر اویس آگیا۔ اویس ایک چوتیا قسم کا لڑکا ہے جس کے سر پر مردانگی کے عجیب بھوت سوار ہیں۔ اس کی عمر کوئی سولہ سترہ سال ہوگی۔ عام سی شکل صورت ہے اور اتنا جاہل ہے کہ بس۔
یونہی ساڑھے بارہ بج گئے۔ دکان بند کی اور ناشتہ لیتا ہوا رکشے میں بیٹھ کر گھر آگیا۔ جس رکشے والے کے ساتھ میں روز آتا ہوں وہ بھی ایک عجیب کردار ہے۔ جتنا ٹوٹا پھوٹا اور کچھاڑا اس کا رکشہ ہے اتنا ہی میلا اور گندا وہ خود ہے۔ پچاس سال کا ہوگا۔ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں ماں باپ مر گئے کوئی بہن بھائی نہیں کچھ نہیں۔ رکشے چلاتا ہے اور رکشے میں ہی سوتا ہے۔ نہ گھر ہے نہ ٹھکانہ حتی کہ رکشہ بھی اس کا اپنا نہیں ہے۔ دیگر رکشے والے جو اسی اسٹینڈ پر کھڑے ہوتے ہیں اس کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس شخص نے ماں باپ کو بہت ستایا اسلئیے یہ آج اس حال کو ہے۔ مگر اسے دیکھ کر اور اس سے ایک دو باتیں کرکے مجھے یہ محسوس نہیں ہوا کہ اسے اپنے حال پر کوئی پچھتاوا ہے۔ شاید وہ اپنے اس برے حال کو اتنا برا محسوس نہیں کرتا جتنا دیگر لوگ کرتے ہیں یا شاید وہ اپنی اس بری حالت کا ذمہ دار بھی کسی اور کو ٹہرا کر مطمئن ہوجاتا ہو۔
گھر آیا تو کھانا وانا کھاتے ہوئے دو بج گئے مناہل کو لے کر باہر نکلا مگر میں جس دکان سے اسے ٹافیاں وغیرہ دلاتا ہوں وہ بند ہوگئی تھی۔ ویسے تو مناہل صرف ڈھائی سال کی ہے لیکن بہت اونچے ذوق رکھنے والے بچی ہے۔ چھوٹی موٹی دکانوں سے خریدی ہوئی چیز اسے اچھی نہیں لگتی۔ پھر بھی میں اسے قریب ہی ایک بیکری پر لے گیا وہاں سے اس نے بے دلی سے ایک دو چیزیں لے لیں۔ گھر واپس آئے تو سحری تک مناہل نے ادھم ٹھونکے رکھا۔ سب گھر والے سحری کر کے صبح سوئے، ابو دکان چلے گئے۔ اور میں انٹرنیٹ پر براؤسنگ کرتا رہا اچانک خیال آیا کہ اپنا بلاگ بناؤں۔ ویسے تو میری زندگی میں لکھنے کو ایسی کوئی خاص بات ہے نہیں مگر جب ایسے ایسے ایلے میلے بلاگ لکھ رہے ہیں تو میں کیوں نہ لکھوں۔ اب یہ سب لکھنے کے بعد شاید سوجاؤں گا۔
ہا ہا ايلے ميلے بلاگوں کی دنيا ميں خوش آمديد جناب
آپ نے ہمیں ایلے میلے سمجھتے ہوۓ بھی ہماری محفل میں شمولیت اختیار کی ۔ بہت شکریہ ۔
حضور آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ بلاگ ویب لاگ کا مخفف ہے اور لاگ یا ڈائری ایک ہی بات ہے ۔
دوسرے آپ کی اطلاع کے لۓ عرض ہے کہ اردو سیّارہ کے اراکین شستہ اردو لکھنے کے پابند ہیں اس لۓ آپ اپنی تحریر کی نظر ثانی کر لیجۓ اور سٹریٹ بوائز والی اردو لکھنے سے پرہیز کیجۓ ۔ اشارہ اویس صاحب کو جو خطاب آپ نے دیا ہے اس کی طرف ہے ۔
اردو بلاگ برادري ميں شموليت پر مبارکباد قبول کيجۓ
آپ سب کا بہت شکریہ۔ میں کوشش کروں گا کہ آئندہ صرف ضرورت کے تحت ناشائستہ زبان استعمال کروں۔ ویسے مجھے اس پابندی کے بارے میں کوئی آگاہی نہیں تھی۔ آپ سب کا بہت شکریہ کہ آپ تشریف لائے۔
[…] دو سال […]
کیا زبان استعمال کی ہے ، ڈائری شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے سو سو ہمیں آپ کی شخصیت کی جھلک نظر آگئی شکریہ جناب
یہ صفحہ چار سال پرانا ہے اور لوگوں کی شخصیات بدل جایا کرتی ہیں ہمیشہ ایک سی نہیں رہتیں۔ لوگوں کو سمجھنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے۔