آج کے اخبار سے

روزنامہ جنگ پر کالم نویس انور غازی نے آج لاعلمی اور بے تکی معلومات پر مبنی صحافت کی انتہا کردی ہے۔ موصوف نے بلیک واٹر کو فری مینسنز سے جا ملایا ہے اور یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ فری میسنز ایک یہودی تنظیم ہے۔ جسے پاکستان میں جنرل ضیاء کے دور میں بین کردیا گیا تھا۔ موصوف کے تمام کالم کا دورامدار اس ویڈیو پر ہے جو ابھی چند دن پہلے ڈاکٹر علوی نے اپنے بلاگ پر شائع کی تھی۔

اس ویڈیو اور ڈاکٹر علوی کی پوسٹ پر میری رائے میرے انگریزی بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں۔

اور جب آپ جنگ کے ویب سائٹ پر انور غازی کا بے تکا مضمون پڑھ چکیں تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کالم”خوشگوار یادیں” بھی ملاحظہ فرمائیے گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نہایت سادگی کے ساتھ بہت ہی شستہ زبان میں بڑی نفاست سے لکھتے ہیں۔ ان کے لہجے کی مٹھاس، بیان کی خوبصورتی اور اخلاص ان کی تحریر کی نمایاں خوبیاں ہیں۔

تحریر: نعمان | موضوعات: کڑیاں

تبصرے:

  1. نعمان عبدالقدیر حان نے سچ کہا ہے مکرانی واقعتا بہت محبت کرنے والے لوگ ہوتے ہیں یہ کسی کو اپنا مان لیں تو اس کے لیئے جان دینے اور لینے سے بھی گریز نہیں کرتے مگر ان کی اس معصومیت اور محبت کا خبیث سیاست دانوں نے بے انتہاء ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور انہیں جاہل رکھ کر ان کو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیئے استعمال کیا ہے،
    درحقیقت یہ وہ افریقن غلام ہیں جنہیں عرب اپنے ساتھ یہاں لائے اور پھر یہ یہیں کے ہورہے،بلکل اسی طرح جس طرح یورپ اور امریکا میں،

  2. آپ صرف اتنا بتا دیجئے کہ فری میسن کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں اور جب اس پر پابندی لگی تھی اس وقت آپ کی عمر کتنی تھی

  3. نعمان صاحب،برا مت منایے گا، بیشتر کالم نگار پاکستانی حالات حاضرہ پر لکھ رہے ہیں، اور حالات وواقعات کو دیکھ کر مختلف دعوے کر رہے ہیں، جن کا موضوع بلیک واٹر، یا پاکستان میں امریکی مداخلت ہے، آپ ایسی باتیں لکھنے والے قلم کاروں کی باتوں کو بے تکی اور افسانوں صحافت کے نام دے رہے ہیں، کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ کا ذریعہ معلومات کیا ہے جو آپ ان باتوں کی تردید کر رہے ہیں۔

  4. نعمان بھائی اسی طرح بے پر کی اُڑانے پر ہی تو عوام ان لوگوں کو پسند کرتی ہے۔ فری میسن اور راتھ چائلڈ وغیرہ پر بہت سے افسانے تراشے گئے ہیں۔ اگر بالفرض وہ موجود ہیں بھی تو انہوں نے چار سو سال محنت کی ہے، ہم نے کیا کیا ہے پچھلے چار سو سالوں میں؟ خیر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ مجھے تو شک ہے کہ یہ سب "نئے” لکھنے والے خود سے یہ سب افواہیں نہیں پھیلا رہے بلکہ اس کے پیچھے "کسی” کا ہاتھ ہے۔ حب الوطنی کے خالص ٹیکے پاکستان میں اتنے وافر نہیں ابھی۔

  5. خرم آپکی بات میں چاہے جتنا دم ہو ہم اپنی کونسپریسی کی ذہنیت سے باز آنے والے لوگ نہیں ہیں،اور جب کوئی ہمیں اس کام کا معاوضہ بھی دے رہا ہو (خواہ کسی شکل میں)تو پھر تو یہ ہمارے لیئے عبادت کا درجہ اختیار کر جاتا ہے:)

  6. یاسر میری معلومات کا ماخذ پوچھنے سے پہلے کیا آپ کو یہ تشویش نہیں ہونی چاہئے کہ ان نام نہاد صحافیوں کی بے پرکی کا ماخذ کیا ہے؟ گمنام پمفلٹ اور کنسپائریسی تھیوریز؟

  7. ابھی میں جلدی میں ہوں اس لئیے آپ کے دئیے گئے لنکس میں سے کسی کو نہ دیکھ سکی، رائے بعد میں دونگی۔ لکھنے کی ضرورت اجمل صاحب کے اس بیان کی وجہ سے آئ کہ آپکی عمر دریافت کی ہے ایک دفعہ میری بھی کی تھی۔ کہنا اتنا ہے کہ جب رسول اللہ نے اسلام پھیلانا شروع کیا تو خود انکی عمر کتنی تھی، جب محمد بن قاسم نے دیبل پر قدم رکھا اور بابر نے پرتھوی راج کو شکست دی، ہمایوں شکست کے بعد ایران بھاگ گیا اورشیر شاہ سوری نے سڑکیں بنانے والے بادشاہ کا خطاب حاصل کیا، میر جعفر نے ٹیپو سلطان کو شہادت کے مرتبے سے سرفراز کیا اور سرسید نے مسلمانوں کے لئیے تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی مہم چلائ، اقبال نے جناح کو خط لکھ کر انڈیا واپس آنے کے لئیے زور دیا اور انسانی تاریخ کے ریکارڈڈ پانچ ہزار سال کی تاریخ کے مختلف واقعات، ان تمام اوقات میں انکی اپنی عمر کیا تھی۔ علم ایک انسان کی عمر کو ہزاروں سال تک لیجاتا ہے۔ تاریخ میں اس بادشاہ کا قصہ بھی موجود ہے جو ایک نوجوان عالم کے استقبال کے لئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ جبکہ وہاں کئ عمر رسیدہ لوگ موجود تھے۔ اس نے علم کی عظمت کو تسلیم کیا ےتھا۔

  8. چلیں جناب میں نے یہ ویڈیو دیکھ لی۔ چونکہ میرا تعلق کچھ فلم میکنگ سے بھی ہے تواس ویڈیو کے اخیر میں درجن بھر لوگوں کے نام دیکھ کر خاصی حیرانی ہوئ۔ اس سارے مد میں آپکو ایک ڈیجٹل مووی کیمرہ، مائیک، اور کچھ کمپیوٹر سوفٹ وئیر پروگرامز چاہئیں۔ اگر یہ چیزیں موجود ہیں اور تھوڑا بہت کہانی بنا لیتے ہیں تو ایک اسکرپٹ لکھئیے کسی جاننے والے کو یہ اسکرپٹ یاد کرائیں اور اسے کیمرے کے سامنے بٹھادیں۔ یعنی اس معیار کی فلم بنانے کے لئے صرف دو لوگ اور اگر آپ یہ ساری تقریر خود بھی اچھی طرح کر سکتے ہیں تو صرف ایک شخص سے بھی کام چل جائے گا۔ اب میرے ذہن میں کافی آئیڈیاز آرہے ہیں۔ اسی طرح کی سنسنی پھیلا کر توجہ کا مرکز بننے کے۔ اگر آپکے پاس ایسے مزید خیالات ہیں تو مجھ سے رابطہ کریں۔ ہو سکتا ہے ہم کچھ تہلکہ خیز ویڈیوز بنانے میں کامیاب ہو جائیں۔ اور یہ دفاعی مبصر کا ٹیگ اپنے نام کے ساتھ مجھے لگا کر بڑی خوشی ہوگی۔ چاہے مجھے اپنے دفاعی نظام کی ککھ بھی نہ پتہ ہو۔
    بر سبیل تذکرہ یہ فری میسنز پر پابندی انیس سو ستر کے دوران بھٹو نے نہیں لگائ تھی۔
    ویسے ایک اور بات جو آپ نظر انداز کر رہے ہیں اور وہ یہ کہ افسانوی صحافت کے ذریعے بھی بعض اوقات رد عمل کی شدت معلوم کی جاتی ہے اور اسکے حساب سے آئیندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات افسانوی صحافت کے ذریعے اصل صورت حال سے توجہ ہٹوا لی جاتی ہے۔ اور جب سب پرانے گڑے مردے اکھیڑ رہے ہوتے ہیں تو کوئ اور اجتماعی قبر پر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ اجتماعی قبر برسوں بعد کسی اور اجتماعی قبر سے توجہ ہٹانے کے لئے استعمال کی جائے گی۔ اب دیکھیں اس سارے ڈرامے کے پیچھے کیا کار ہائے نمایاں انجام دئیے جاتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں بہتی گنگا میں، میں بھی ہاتھ دھو لوں اورجب تک فری میسنز پر ایک تحقیقی مضمون بنا لوں۔ یا دستاویزی فلم۔ عنوان رکھوں فری میسنز کی واپسی عرف بلیک واٹر کی نحوست یا فری میسنز کالے پانیوں میں یا بلیک واٹر عرف قاتل حسینہ۔

  9. میں نے عمر اس لئے پوچھی تھی کھ شاید آپ نے خود ديکھا ہو سب کچھ اسی لئے اتنے وثوق سے سب کچھ رد کر دیا ہے ۔ جو پہلی بات میں نے پوچھی تھی وہ فری میسن جو آجکل زیادہ معروف نہیں کے متعلق معلومات کا پوچھا تھا مگر جواب نہیں دیا گیا ۔ عنيقہ ناز صاحبہ نے جس زمانے کی بات کی تھی وہ ان کی پیدائش سے بہت پہلے کی تھی

Comments are closed.