چھپکلی کی موت آتی ہے تو وہ ہمارے گھر کا رخ کرتی ہے

آج افطار کے بعد بلاگ پر ایک پوسٹ ڈالی۔ عازب نے اس پوسٹ پر اپنی تصویر دیکھ کر شدید احتجاج کیا مگر میں نے اسے سمجھایا کہ یار یہ تصویر اتنی کیوٹ ہے کہ ہر کوئی اسے پسند کرے گا۔ اس کے بعد میں دکان چلاگیا۔ آج بہت دن بعد ہماری سیل میں کچھ اضافہ ہوا۔ ہمارے منافع کا زیادہ انحصار لسی اور دہی پر ہوتا ہے۔ اس لئیے سیل میں ہونے والا اضافہ منافع نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ لسی اور دہی کا استعمال موسم پر ڈیپینڈ کرتا ہے۔ ویسے بھی رمضان میں دن میں تو لسی صرف نان مسلمز کے ہی لئیے دستیاب ہوتی ہے۔ اس لئیے سوائے ایک دو ہندو اور عیسائی گاہگوں کے اور کوئی لسی پینے نہیں آتا اور اگر آتا بھی ہے ابو اسے اتنا شرمندہ کرتے ہیں کہ وہ خود ہی شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے۔ حالانکہ میرے ابو خود روزہ نہیں رکھتے مگر دوسروں کو شرم دلانے میں وہ کمال رکھتے ہیں۔ جیسے اگر ایک گاہک دکان میں داخل ہوا۔

کسٹومر: چاچا لسی ملے گی کیا؟
ابو: ہاں اگر آپ غیر مسلم ہو تو۔
کسٹومر: نہیں چاچا الحمداللہ میں تو مسلمان ہوں۔
ابو: میاں مسلمان تو رمضان میں روزے رکھتے ہیں۔
کسٹومر: چاچا میری کچھ مجبوری تھی۔
ابو: کیا مجبوری تھی۔
کسٹومر: میری طبیعت خراب ہے
ابو: طبیعت خراب ہے تب تو تمہیں ویسے ہی لسی نہیں پینا چاہئے۔
کسٹومر: نہیں اب تو اللہ کا کرم ہے۔
ابو: چھ گھنٹے پہلے سحری کے وقت تمہاری طبیعت خراب تھی اور اب صحیح ہے؟
کسٹومر: مجھے ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع کیا تھا
ابو: غلط کوئی ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع نہیں کرتا بشرطیکہ بندے کی حالت بہت خراب ہو۔ مگر تم تو ماشاءاللہ ٹھیک ٹھاک لگ رہے ہو۔
کسٹومر: آپ لسی پلارہے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ منع کردیں
ابو: میں کیوں منع کردوں؟ اگر اتنے سوال جواب کے بعد بھی تم بے شرم بنے کھڑے ہو تو تمہاری غلطی ہے۔

یہ سن کر کسٹومر جانے لگتا ہے تو ابو اسے آواز دے کر بلالیتے ہیں۔ اچھا آج تمہیں لسی پلادیتا ہوں مگر کل سے روزہ رکھنا۔ اور اگلے دن سے وہ کسٹومر غائب ہوجاتا ہے۔ وہ روزہ پھر بھی نہیں رکھتے مگر کوئی ایسی دکان ڈھونڈ لیتے ہیں جہاں انہیں یہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔

کچھ دن پہلے کسی کام سے صدر جانا ہوا۔ میرے ساتھ عازب بھی تھا۔ ہم نے سوچا کہ گھر پہنچتے پہنچتے روزہ کھل جائے گا تو یہیں سے پیپسی کی بوتل لے لیں۔ ایک بیکری میں داخل ہوئے بوتل لینے کے بعد جو مڑ کر دیکھا تو روزہ خوروں کی بھیڑ اندر بیٹھی چھپ کر پیٹ پوجا کر رہی تھی۔ انہیں اسطرح کھاتے دیکھ کر عازب کی اور میری ہنسی چھوٹ گئی اور ان میں سے بھی کچھ مسکرانے لگے۔

آج دکان سے گھر آتے ہوئے بہت دیر ہوگئی۔ دکان سمیٹتے ہوئے ہی ایک بج گیا پھر اچانک لائٹ چلی گئی۔ باہر سب کی لائٹ آرہی تھی سوائے ہماری دکان کے۔ میری دکان کے برابر میں ایک پان والا ہے جس کے ساتھ ہم اپنا بجلی کا میٹر شئیر کرتے ہیں۔ چونکہ بیچارے پان والے کی دکان رمضان میں سارا دن بند رہتی ہے اسلئیے وہ رات بھر دکان کھول کر کسر پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلئیے وہ بہت پریشان تھا۔ ایک بجلی والا ہماری دکان کے علاقے میں گھومتا رہتا ہے۔ بیچارہ ہیروئینچی تھا آجکل اس نے نشہ چھوڑا ہوا ہے اور راتوں کو گلیوں میں پھرتا رہتا ہے۔ اسے ڈھنڈوایا پھر اس سے بجلی صحیح کروائی۔ دراصل یہ سب اسی کی کارستانی تھی وہ اکثر یہ حرکت کرتا ہے جیسے کسی کے میٹر کی سپلائی کاٹ دی اب آپ اسے بلائیں گے تو وہ آپ سے سو پچاس روپے اینٹھ لے گا۔ میں اس کی اس عادت سے اچھی طرح واقف ہوں اور اسے بھی معلوم تھا کہ میرے سامنے اس کی دال نہیں گلے گی۔ اس نے ایسے وقت بجلی کاٹی جب اس کے خیال میں ہماری دکان بند ہوجانی چاہئیے تھی۔ مگر اس کا بیڈ لک کے میں اسوقت وہیں موجود تھا۔ بجلی صحیح کرنے کے بعد وہ پان والے کے پیچھے پڑگیا کہ بھائی تمہارا کام کرا ہے پیسے دو۔ پان والا میرے پاس آیا بھائی اسے پیسے دو میں نے کہا ہر مرتبہ میں اتنا خرچہ کرتا ہوں آج تم خرچا کرو۔ پان والا کہنے لگا چلو آدھے آدھے کرلیتے ہیں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے جب اس نے اپنے حصے کے پیسے دے دئیے تو بجلی والے سے کہنے لگا اب تم نعمان بھائی سے بھی پیسے لو تو بجلی والا بولا وہ تم فکر نہیں کرو میں نعمان بھائی سے بعد میں لے لوں گا۔ پان والا اڑ گیا کہنے لگا نہیں میرے سامنے لو۔ مگر بجلی والا جلدی سے بھاگ گیا۔

ڈھائی بجے گھر آیا نہایا دھویا سحری کی۔ آج کہیں باہر سے بھولی بھٹکی ایک چھپکلی ہمارے گھر میں گھس آئی ہے اس وقت کامران ایک ہاتھ میں جوتا دوسرے میں جھاڑو لئیے گھات لگائے بیٹھا ہے۔ ہمارے گھر میں سب چھپکلی سے بہت ڈرتے ہیں کامران بھی مگر اب کسی کو تو اس چھپکلی کے خون سے اپنے ہاتھ رنگنا ہونگے۔

سحری ٹائم میں اکثر ٹی وی چینل لائیو کال ان شوز کر رہے ہوتے ہیں جس میں آپ اپنے سوال براہ راست عالم حضرات سے کرسکتے ہیں۔ ان میں سے اکثر سوال تو ایسے ہوتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے لوگوں کی کی ذہانت پر کہ وہ ایسے سوال کہاں کہاں سے ڈھونڈ لاتے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں میں بھی کسی پروگرام میں کال کروں اور پوچھوں کہ آیا روزے کی حالت میں چھپکلی مارنے سے روزے پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں۔

تبصرے:

  1. بچپن ميں ہم چھپکلی مارتے تھے تو کہتے تھے چھپکلی مارنے سے انسان جنت ميں جائے گا۔ پہر چھپکلی مار کے اسکی دم عليحدہ کر کے اس کا تماشہ ديکھتے تھے۔ لکھنے کا انداز بہت سادہ اور اچھا ہے لکھتے رہنا۔

Comments are closed.