شیطان کی ویکیشنز

جب سے میں نے کمپیوٹر میں ایک نیا گیم ڈالا ہے تب سے کامران اور عازب کو کمپیوٹر پر سے ہٹانا اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔ عازب کو اپنے گٹار ٹیبز کے لئیے بھی انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کی کلاسسز کے علاوہ وہ ایسے کسی اور بندے کو نہیں جانتا جو گٹار بجاتا ہو اسلئیے انٹرنیٹ پر اسنے انڈین گٹار ٹیبز کی مدد سے بہت سارے دوست بنالئیے ہیں۔ اس کے ایم ایس این مسینجر کی لسٹ مستقبل کے راک اسٹارز سے بھری ہوئی ہے۔ میرے کمپیوٹر کی آدھی ہارڈ ڈسک پر عازب کی ریکارڈنگز، اس کا میوزک کلیکشن اور اس کے دوستوں کے گانے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ گانے اتنے بے سرے ہوتے ہیں مگر ہر بار عازب یہ گانے سن کر اپنے دوستوں کو جواب دیتا ہے "اٹز کول یار”، جوابا وہ بھی عازب کی ریکارڈنگز سن کر ایسے ہی مسیج بھیجتے ہیں۔ میں تصور کی آنکھ سے انہیں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہیں اور میرے جیسے اپنے کسی بڑے بھائی کو عازب کا گانا سنوارہے ہیں اور اسی طرح ہنس رہے ہیں جیسے میں اور عازب ان کے بے سرے گانوں پر ہنستے ہیں۔ مگر میں عازب کا حوصلہ بڑھاتا ہوں "پاگل ایک دن یہ سب لوگ ہمارے گانے انڈس میوزک پر سن رہے ہونگے تب پتہ چلے گا کون بے سرا ہے”۔

کامران کو براؤسنگ کا اتنا شوق نہیں وہ بس گیم کھیلنے ہی کے لئیے کمپیوٹر استعمال کرتا ہے۔ اور اگر وہ ایک بار بیٹھ گیا تو اسے اٹھانے کے لئیے سو جتن کرنے پڑتے ہیں۔ جب پیار سے کام نہیں بنتا تو غصہ دکھایا جاتا ہے اور اگر غصے سے کام نہ بنے تو پھر امی کو بلانے کی دھمکی دی جاتی ہے اور جب وہ بھی بے کار ہوجائے تو ہاتھا پائی اور گھسیٹا گھساٹی کرکے اسے اٹھانا پڑتا ہے۔

آج دکان پر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عباس کا نام تبدیل کردیا جائے۔ عباس ہماری دکان پر کام کرتا ہے اور اس کا تعلق پنجاب کے ضلع چیچہ وطنی کے ایک گاؤں سے ہے۔ جب سے رمضان شروع ہوئے ہیں ایک تو وہ پورے روزے رکھ رہا ہے دوسرا اسے رہ رہ کر اپنے گاؤں اور اپنے لوگوں کی باتیں یاد آرہی ہیں۔ عباس بتاتا ہے کے گاؤں میں شام کو لوگ اکٹھے ہوکر بیٹھتے ہیں تو ایک دوسرے کو ادھر ادھر کی باتیں بتاتے ہیں۔ عباس کی زیادہ تر معلومات انہیں باتوں سے اخذ کردہ ہوتی ہے حالانکہ اسے کراچی میں ایک عرصہ ہوگیا ہے مگر پھر بھی وہ اکثر گاؤں کی بیٹھکوں میں سنی ہوئی باتیں سناتا ہے جو بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک کے دیہات میں تعلیم کی صورتحال آجکل کچھ بہتر ہوگئی ہے مگر دس سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ دیہات میں ابھی بھی اکثر لوگ یا تو اپنے بچوں کو اسکول ہی نہیں بھیجتے یا پھر بیچ میں سے ہی اٹھالیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہاں لوگ جاہل ہیں تو وہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ وہاں تعلیم کا ایک ایسا سسٹم کام کررہا ہے جو حیرت انگیز بھی ہے کارآمد بھی۔ اور وہ تعلیمی سسٹم ہے بات چیت کا، پیری مرشدی کا، محبت کا۔ یہ سسٹم ادھورا تو ہے مگر اتنا برا نہیں اور پھر دیہاتوں میں جو ہماری حکومتوں نے تعلیم سے غفلت برتی ہے اگر اس کی روشنی میں اس سسٹم کو دیکھا جائے تو اس سسٹم نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ نیکی عام کی ہے، لوگوں کو شرافت اور انسانیت سکھائی ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنا سکھایا ہے اور اللہ کے بندوں سے پیار کرنا سکھایا ہے۔

عباس نے اپنے گاؤں کی بیٹھک میں جو قصے سنے ان میں سے چند پیش خدمت ہیں۔ مجھے ان قصوں کی سچائی جاننے کی ضرورت نہیں۔ مجھے دلچسپی اس بات سے ہے کہ ان قصوں کا دیہات کی عوام پر کیا اثر پڑا ہے۔ عباس سناتا ہے:

ایک مرتبہ حضرت بابا فرید رحمتہ اللہ علیہ نے ایک جنگل میں مسجد بنانے کا ارادہ کیا اور وہیں اپنی کٹیا بھی ڈال دی۔ آپ کے چاہنے والوں سے مسجد آباد ہوگئی تو علاقے کے حاکم کو خبر ہوئی اس نے بابا فرید کے خلاف عدالت میں عرضی ڈال دی۔ عدالت نے بابا صاحب کو طلب کیا۔ جہاں بابا صاحب کا بس یہ جواب تھا کہ یہ تو اللہ کی زمین ہے اور حاکم وقت کا زمین کی ملکیت کا دعوی صحیح نہیں ہے۔ وہاں موجود محرر جب کاغذ پر لکھتے کہ زمین فلاں حاکم کی ہے تو اللہ کے حکم سے ان کے قلم رک جاتے اور وہ لکھ نہ پاتے۔ کافی بحث و تکرار کے بعد بابا صاحب نے جج صاحب سے کہا آپ ایسا کریں کہ زمین سے ہی پوچھ لیں آیا وہ اللہ کی زمین ہے یا حاکم وقت کی۔ انگریز جج آپ کی شہرت پہلے ہی سن چکا تھا اسلئیے اس نے آپ کو آزمانے کی غرض سے حامی بھرلی اور بمع عدالتی عملہ، فریقین اور چند گواہوں کے ساتھ اس مقام پر پوچھے۔ وہاں پہنچ کر بابا نے زمین پر پیر مارا اور کہا "بول اللہ کے حکم سے کہ تو کس کی ہے؟” زمین سے آواز آئی میں تو فرید کی ہوں۔

عباس بتاتا ہے کہ اس کے والد کے پیر صاحب جدی پشتی رئیس ہیں اور وہ جب ان کے گاؤں آتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کو بھی گلے لگاتے ہیں جن کے پاس پہننے کو کپڑے بھی نہیں ہوتے اور جنہیں دین دنیا کی کوئی خبر نہیں ہوتی اور گاؤں کے دیگر لوگ بھی انہیں حقیر خیال کرتے ہیں۔ اور پیر صاحب ان کے گھر بھی جاتے ہیں ان کے بچوں کی خیریت پوچھتے ہیں انہیں پیار کرتے ہیں اور چلتے چلتے ان کے ہاتھ میں چپکے سے کچھ نہ کچھ رکھ آتے ہیں۔

یہ سب قصے عباس نے ایسے لوگوں سے سنے ہیں جو کہ عباس کے مقابلے میں بہت کم تعلیم یافتہ تھے۔ عباس تو پھر بھی میٹرک پاس ہے۔ جب وہ بابا بھلے شاہ کا ذکر کرتا ہے اور جب حضرت شمس تبریزی کی باتیں کرتا ہے تو پتہ نہیں کہاں گم ہوجاتا ہے۔ میں جب یہ چاہتا ہوں کہ عباس کا دھیان گھڑی پر سے ہٹ جائے تو کسی نہ کسی بزرگ کا ذکر چھیڑ دیتا ہوں اور بس پھر عباس نان اسٹاپ شروع ہوجاتا ہے۔ غوث پاک سے شروع کرتا ہے اور کلفٹن والے عبداللہ شاہ غازی پر لاکر ختم کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ مجھے تو بابا فرید سے محبت ہے اور میں تو بس ان کا ادنی سا غلام ہوں۔ اسلئیے ہم نے عباس کا نام بدل کر غلام فرید رکھ دیا ہے۔ عباس یہ نام سن کر بہت خوش ہوتا ہے۔

آج ہماری دکان پر مارکیٹ سے آٹھ لسی کا آرڈر آیا جب کسی ایسی دکان سے لسی کا آرڈر آتا ہے جہاں ہم کسی کو نہیں جانتے تو پھر ہم آرڈر کے پیسوں کے ساتھ ساتھ کچھ مزید رقم بھی بطور ڈپازٹ رکھ لیتے ہیں۔ جسٹ ان کیس اگر کوئی شرپسند شخص ہمارے گلاس چرا کر بھاگ جائے یا توڑ دے تو ہم اپنا نقصان کم کرسکیں۔ تو آج جو بندہ آرڈر لایا اس کے پاس پانچ سو کا نوٹ تھا میرے پاس بھی دکان میں چینج نہیں تھا۔ اسلئیے میں نے اسے کہا کہ جب آپ گلاس بھجوائیں گے تب ہی پیسے لے لینا اور وہ مان گیا۔ اسی دوران ایک اور بچہ آیا۔ اس نے دو کلو دودھ لیا اور سو کا نوٹ دے کر بقایا پیسے واپس لئیے بغیر ہی چلا گیا۔ رش کا ٹائم تھا اسلئے مجھے پیسے کاٹنے میں دیر ہوگئی۔ خیر بارہ بج گئے نہ گلاس واپس آئے نہ وہ بچہ آیا تو میں غلام فرید سے کہنے لگا کہ یار آج تو بہت پیسے جمع ہوگئے اور ہم یہ منصوبہ بنانے لگے کہ اگر ہمارے گلاس واپس نہ آئے تو اس دکاندار سے کیا جرمانہ وصول کریں گے اور یہ جو دو کلو والے کے چوالیس روپے ہیں ان سے کیا عیاشی کی جائے۔ مگر جبھی وہ دو کلو والا بچہ آیا انکل آپنے مجھے پیسے واپس نہیں کئیے۔ اور اس کے جاتے ہی وہ گلاس والا بھی آگیا۔ ہم بھول گئے تھے کہ رمضان میں تو شیطان ویکیشنز پر جہنم کی سیر کو گیا ہوتا ہے۔

تبصرے:

Comments are closed.