قدیر احمد رانا کے مشورے پر بلاگ کے کچھ مرمت کی ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ بلاگنگ کی دنیا میں میرا اسطرح استقبال ہوگا۔ اردو بلاگرز کی حوصلہ افزائی سے میرا بلاگ چند ہی دنوں میں نومولود بلاگ کی صف سے نکل کر طفل مکتب کی صف میں آگیا۔ کچھ حوصلہ قدیر کے ای میل سے ملا اور میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب بلاگ کو عید سے پہلے ہی نئے کپڑے پہنادیں۔ میں نے ایک ٹیمپلیٹ پسند کیا اور اسکے فونٹ اور ڈائریکشن وغیرہ بدل دئیے چند گھنٹوں کی محنت سے اب یہ کافی بہتر نظر آتا ہے۔ میں نے فونٹ کو نفیس نسخ سے اردو نسخ کردیا تو پتہ چلا کہ اب میرے بلاگ پر ‘ آّ ‘ صاف نظر نہیں آتا اسکے لئیے تھوڑا کام اور کرنا پڑے گا۔
ہماری دکان پر آج دودھ جلدی ختم ہوگیا۔ رش بہت تھا اور اس رش میں مانگنے والے اتنے تھے کہ پتہ نہیں چلتا تھا کون مانگنے والا ہے کون خریدار ہے۔ خصوصا دور جدید کی بھکارنیں، بالکل نئے اور ماڈرن برقعے پہنے یہ خواتین جب سامنے آتی ہیں تو کوئی نہیں کہ سکتا کہ یہ بھیک مانگتی پھر رہی ہیں۔ مجھے غصہ تب آتا ہے جب یہ عورتیں آستین پکڑنے اور ہاتھ لگانے کی کوشش کرتی ہیں۔ مجھے اور لڑکوں کا نہیں پتہ مگر جب کوئی نامحرم عورت مجھے ہاتھ لگاتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا۔ گرچہ ان میں سے زیادہ تر فقیرنیاں خراب نہیں ہوتیں مگر کچھ تو باقاعدہ دعوت نامے بانٹ رہی ہوتی ہیں گناہ کے اور یہ سب کچھ ہورہا ہوتا ہے برقعے کی آڑ میں۔ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے شریف لڑکوں کو اپنی عزت سنبھالنا مشکل ہوگیا ہے۔ فقیرنیوں کی تو چھوڑیں ایک لڑکی ہماری دکان پر آتی ہے اور وہ تو میرے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔ خواہ مخواہ فری ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ کبھی نام پوچھتی ہے کبھی فون نمبر۔ کبھی تو میرا جی چاہتا ہے کہ اسے ٹھیک ٹھاک سنادوں مگر بس ہمت نہیں پڑتی۔ جیسے ہی وہ آتی ہے میں غلام فرید کو اشارہ کردیتا ہوں اور پھر خود منہ پھیر کر کھڑا ہوجاتا ہوں۔ غلام فرید کہتا ہے بھائی کیا ہے دے دو نا نمبر ویسے ہی تمہارے موبائل پر میں نے آج تک کوئی کال آتے نہیں دیکھی اسی بہانے میں بھی سن لوں گا کہ آپ نے کونسی رنگ ٹون سیٹ کر رکھی ہے۔ بہت گھنا ہے وہ سارے دن کا بدلہ ایک ہی جملے سے چکادیتا ہے۔
تو بات ہورہی تھی فقیرنیوں کی ۔ کئی مرتبہ تو میں ان فقیرنیوں کے دھوکے میں کئی خواتین گاہگوں کو "معاف کرو مائی” کہہ چکا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک بڑی بی دکان پر آئیں اور انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر مجھے دیکھنے لگیں۔ انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر ہاتھ آگے کرنا بھکاریوں کا بین الاقوامی سائن ہے۔ میں نے جھٹ معذرت کرلی تو بڑی بی بولیں "ارے! میں کوئی تمہیں بھکاری نظر آّرہی ہوں”۔ ان کا یہ بولنا تھا اور میری ہنسی چھوٹ گئی اب ایک طرف تو میں ہنسی روکنے کی کوشش کر رہاہوں دوسری طرف ان سے معافی بھی مانگ رہا ہوں۔ خیر انہوں نے زیادہ برا نہیں منایا اور خود بھی مسکرادیں۔ دراصل وہ ایک کلو دودھ مانگ رہی تھیں۔ اب وہ جب بھی دکان پر آتی ہیں تو اشارہ کرنے کے بجائے ایک کلو دودھ منہ سے کہتی ہیں۔ ہر بار جب بھی ان کی میری آنکھیں ملتی ہیں تو ہم دونوں کو ہنسی آجاتی ہے۔
ہماری دکان پر اتنے گاہگ نہیں آتے جتنے مانگنے والے آتے ہیں۔ بھیک مانگنے والے، تھیلیاں مانگنے والے، پانی پینے والے، پینے کا پانی مانگنے والے، کھلا (چینج) مانگنے والے، ادھار دودھ دہی مانگنے والے، اور بہت سارے مانگنے والے ایک کے بعد ایک آتے ہیں۔ اگر یہ سب لوگ میری دکان سے دودھ بھی لیں تو میں ایک سال کے اندر آدھا کراچی نہیں تو کم از کم اپنی پوری بلڈنگ تو خرید ہی لوں گا۔ کامران کے ٹائم پر تو اور بھی زیادہ مانگنے والے آّتے ہیں کیونکہ کامران کے ماتھے پر لکھا ہے کہ یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے۔ میں تو جب غصے میں ہوتا ہوں تو آنکھیں سر پر رکھ لیتا ہوں۔ بالکل پیروٹ آئیز ہوجاتا ہوں۔ آج ایک بندہ دودھ لینے آیا ڈیڑھ کلو دودھ لیا اور جب دودھ بندھ گیا تو میرے ہاتھ میں چالیس روپے رکھ کر کہنے لگا دو روپے کل لے لینا۔ میں نے کہا ایک منٹ ٹہریں اور دودھ کی تھیلی سائڈ میں کری اور انہیں چالیس روپے کا دودھ دے دیا وہ کہنے لگے یار تم دو روپے کے لئیے ایسا کر رہے ہو میں تمہارا روز کا گاہگ ہوں۔ میں نے کہا اگر تم ایک دن دو روپے کا دودھ کم پی لوگے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بس بھائی وہ تو ہتھے سے اکھڑ گیا۔ میں نے چالیس روپے نکال کر رکھ دئیے اور کہا اگر دودھ لینا ہے تو جتنا دودھ چاہئیے اتنے پیسے دو ورنہ جتنے پیسے تمہاری جیب میں ہیں اتنا ہی دودھ لو۔ وہ جناب لگے ضد بحث کرنے۔ یہ ہوگئی ہے ہم پاکستانیوں کی عادت اگر مانگنے سے کوئی چیز نہ ملے تو چاہے ہمارا حق نہ بنتا ہو تب بھی ہم اسے ضد بحث سے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہماری دکان پر کچھ لوگ تو صرف اسلئیے آتے ہیں کہ وہ اخبار پڑھ سکیں اور تازہ ترین ملکی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کرسکیں۔ زلزلے کے متاثرین کے لئیے کی جانیوالی امداد کی نیوز، کراچی میں زلزلے کی خبریں، امدادی سامان میں ہونیوالی ہیرا پھیری آجکل کے ہاٹ ٹاپک ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بلاگنگ کے بارے میں بات نہیں کرتا جو کہ آجکل میرا فیورٹ ٹاپک ہے۔
ذندهباد اپ كى تحرير ميں ايكـ بے ساخته پن هے اپ اسے برقرار ركهيں ـميرے خيال ميں اپ اپنى روزمره كى ذبان ميں جو گالى الفاظ استعمال كرتےهيں وه بهى لكهـ ديا كريں ـ
اس طرح پڑه كر اردو سيكهنے والے هم جيسے پينڈو لوگوں كو اهل ذبان لوگوں كى اردو سے بهى اشنائي هو جائے گى ـ
خاور كهوكهر
پیروٹ آئیزاچھی آصطلا ح ہے
اچھا ڈیزائن ہے ۔ ویسے دو روپے کا ادھار کرنا کوئی ایسی بری بات تو نہیں ہے ۔ ۔ اس بندے نے اس لیے کہا کہ وہ آپ کا روزانہ کا گاہک تھا ،، آپ اس کا مان ہی رکھ لیتے ، بیچارہ ، چچ چچ
میرا خیال تھا کہ ایسی مانگنے والیاں چھوٹے شہروں میں ہوتی تھیں ۔ یہ کراچی میں ؟ کوئی گھپلا تو نہیں کر رہے آپ ۔ کتنی کہانیاں اب تک لکھی ہیں ؟ اور یہ ٹیکنالوجی سے لگاؤ آپ کو انجنئرنگ یونیورسٹی میں ہوا یا کبمپیٹر سائنس کالج میں ؟
میرا ایک دوست جو اب بطور چیف انجنیئر ریٹائر ہو چکا ہے جب اسسٹنٹ انجنیئر تھا تو سب کو بتاتا تھا کہ لاہور بھاٹی گیٹ کے باہر گنڈیریاں بیچتا ہے ۔ سکول سے بھاگا کرتا تھا اس لئے پڑھ نہ سکا ۔
خاور بھائی جہاں گالیاں لکھنے کی ضرورت ہوئی وہاں ضرور لکھی جائیں گی۔ تشریف آوری کا شکریہ۔ کاشف بھائی شکریہ۔ قدیر بھائی بات دو روپے کی نہیں تھی۔ بات یہ ہے کہ دو روپے کا کوئی اتنا زیادہ دودھ نہیں آتا کہ اگر وہ نہ لیتے تو انہیں دودھ کی کمی ہوجاتی۔ پھر کیوں وہ اتنی معمولی رقم خواہ مخواہ ادھار کر رہے ہیں؟ خوف خدا نہ صحیح لوگوں کو اپنی عزت کی تو قدر کرنی چاہئیے۔
اجمل بھائی۔ یہ مانگنے والے خصوصی طور پر رمضان کے مہینے میں کراچی آتے ہیں یہاں ہر قسم کے مانگنے والے ہیں اور رمضان میں تو بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی سے میرا لگاؤ تکنیکی نوعیت کا نہیں۔ ایسے سمجھ لیں جیسے ایک دیہاتی شہر آتا ہے تو اسے بڑے بڑے بازار اٹریکٹ کرتے ہیں۔ میں بھی ایسا ہی ایک دیہاتی ہوں جو اتنی معلومات دیکھ کر پاگل ہوگیا ہے۔
آپ لوگوں کی ہمت افزائی کا بہت شکریہ